جنگ خندق میں امر یہودی جس کو مکہ کے کافر کرائے پر لاۓ تھے وہ خندق پھلانگ کر مدینے میں داخل ہو گیا تو اس نے مسلمانوں کے لشکر کو للکارا کوئی ہے جو میرا مقابلہ کرے آؤ تمہیں تمہاری جنت میں بھیج دوں کیا تم میں کسی کو جنت جانے کا شوق نہیں ہے تب نبی پاک نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کیا تم میں کوئی ہے جو اس کافر کا منہ بند کر سکے؟ تین بار صحابہ اکرام سے پوچھا گیا بڑے بڑے بڑے خاموش سر جھکاے بیٹھے رہے تینوں بار مولا علی علیہ سلام لبیک لبیک لبیک کہتے رہے جب کوئی صحابی کھڑا نہ ہوا تو مولا علی شیرے خدا کو بولایا گیا جب رب کا شیر جلال میں امر یہودی کے مقابلے کے لئے روانہ ہوئے تو ایک صحابی نے نبی پاک سے کہا یا رسول اللّه دیکھیں علی کیسے جا رہے ہیں تب میرے مدنی میٹھے آقا علیہ سلام نے فرمایا آج قل کفر کے مقابلے پر قل ایمان جا رہا ہے آج قل کفر کے مقابلے پر قل اسلام جا رہا ہے آج قل کفر کے
مقابلے پر قل دین جا رہا ہے سبحان اللّه
جب مولا علی علیہ سلام امر کے قریب پہنچے تو امر نے مولا علی سے کہا بچے تم کیوں آ گئے ہو وہ بڑے بڑے جو سر لٹکائے بیٹھے ہیں وہ کیوں نہیں آئے اور نہ ہی میں نے تمہیں کبھی لڑتے ہوئے دیکھا ہے تب مولا علی علیہ سلام نے فرمایا آج کے بعد مجھے لڑتا ہوا دیکھ بھی نہیں سکوں گے مولا علی علیہ سلام نے امر کو تین شرط میں سے ایک پر عمل کرنے کا کہا پہلی اسلام قبول کر لے دوسری بھاگ جاؤ تیسری وار کرو تو امر بولا پہلے وار تم کرو مولا علی علیہ سلام نے فرمایا اگر پہلا وار میں نے کیا تو پھر تمہیں موقع نہیں ملے گا امر نے وار کیا مولا نے روکا وار کو پھر مولا علیہ سلام نے وار کیا اور امر کو واصل جہنم کر دیا بے امر کے جہنم جاتے ہی سفیان کافر کی فوج میدان سے فرار ہو گئی اور اسلام کو فتح نصیب ہوئی بے شک مولا علی علیہ سلام کے اس وار کے بارے میں ہی سرکار کافرمان ہے کے علی کا ایک خندق کا وار قل ثقلین کی عبادت سے افضل ہے سبحان اللّه قل ثقلین کا مطلب ہے اللّه کی بنائی ہوئی تمام مخلوق
جی ہاں خندق بھی ان جنگوں میں سے ایک جنگ ہے جس میں کسی صحابی کی تلوار میعان سے باہر نہ آئ اور امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ سلام خندق کے فتح بن گئے۔۔۔۔۔
